رد فتن

ايميل باکس

شریک ہوں

شرکت ختم

Flag Counter

ترفیہات

حرفے چند

  ...  

1-امام محمد بن عبد الکریم شہرستانی رحمہ اللہ ، خوارج کی تعریف میں لکھتے ہیں : کل من خرج عن الإمام الحق الذي اتفقت الجماعة عليه يسمی خارجيًا سواءً کان الخروج في أيام الصحابة علی الأئمة الراشدين أو کان بعدهم علی التابعين بإحسان والأئمة في کل زمان. شهرستانی، الملل والنحل : 114 ’’ہر وہ شخص جو عوام کی متفقہ مسلمان حکومتِ وقت کے خلاف مسلح بغاوت کرے اسے خارجی کہا جائے گا؛ خواہ یہ خروج و بغاوت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں خلفاے راشدین کے خلاف ہو یا تابعین اور بعد کے کسی بھی زمانہ کی مسلمان حکومت کے خلاف ہو۔‘‘ 2۔ امام نووی رحمہ اللہ ، خوارج کی تعریف یوں کرتے ہیں : الخوارج : صنف من المبتدعة يعتقدون أن من فعل کبيرة کفر، وخلد فی النار، ويطعنون لذلک فی الأئمة ولا يحضرون معهم الجمعات والجماعات. نووی، روضة الطالبين، 10 : 51 ’’خوارج بدعتیوں کا ایک گروہ ہے۔ یہ لوگ گناهِ کبیرہ کے مرتکب کے کافر اور دائمی دوزخی ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے مسلم اُمراء و حکام پر طعن زنی کرتے ہیں اور ان کے ساتھ جمعہ اور عیدین وغیرہ کے اجتماعات میں شریک نہیں ہوتے۔‘‘ 3۔ شیخ ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں : کانوا أهل سيف وقتال، ظهرت مخالفتهم للجماعة؛ حين کانوا يقاتلون الناس. وأما اليوم فلا يعرفهم أکثر الناس.. . . ومروقهم من الدين خروجهم باستحلالهم دماء المسلمين وأموالهم. ابن تيمية، النبوات : 222 ’’وہ اسلحہ سے لیس اور بغاوت پر آمادہ تھے، جب وہ لوگوں سے قتال کرنے لگے تو اُن کی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت سے مخالفت و عداوت ظاہر ہوگئی۔ تاہم عصرِ حاضر میں (بظاہر دین کا لبادہ اوڑھنے کی وجہ سے) لوگوں کی اکثریت انہیں پہچان نہیں پاتی۔ ۔ ۔ ۔ وہ دین سے نکل گئے کیوں کہ وہ مسلمانوں کے خون اور اَموال (جان و مال) کو حلال و مباح قرار دیتے تھے۔‘‘ شیخ ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ مزید بیان کرتے ہیں : وهؤلاء الخوارج ليسوا ذلک المعسکر المخصوص المعروف فی التاريخ، بل يخرجون إلی زمن الدجّال.(1) وتخصيصه صلی الله عليه وآله وسلم للفئة التی خرجت فی زمن علی بن أبی طالب، إنما هو لمعان قامت بهم، وکل من وجدت فيه تلک المعانی ألحق بهم، لأن التخصيص بالذکر لم يکن لاختصاصهم بالحکم، بل لحاجة المخاطبين فی زمنه عليه الصلاة والسلام إلی تعيينهم.(2) (1) ابن تيميه، مجموع فتاوٰی، 28 : 495، 496 (2) ابن تيميه، مجموع فتاوٰی، 28 : 476، 477 اور یہ خوارج (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عہد کا) وہ مخصوص لشکر نہیں ہے جو تاریخ میںمعروف ہے بلکہ یہ دجال کے زمانے تک پیدا ہوتے اور نکلتے رہیں گے۔ اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اُس ایک گروہ کو خاص فرمانا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نکلا تھا، اس کے کئی معانی ہیں جو ان پر صادق آتے ہیں۔ ہر وہ شخص یا گروہ جس میں وہ صفات پائی جائیں اسے بھی ان کے ساتھ ملایا جائے گا۔ کیونکہ ان کا خاص طور پر ذکر کرنا ان کے ساتھ حکم کو خاص کرنے کے لئے نہیں تھا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے ان مخاطبین کو (مستقبل میں) ان خوارج کے تعین کی حاجت تھی۔‘‘ 4۔ حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمہ اللہ فتح الباری میں فرماتے ہیں : الخوارج : فهم جمع خارجة أی طائفة، وهم قوم مبتدعون سموا بذلک لخروجهم عن الدين، وخروجهم علی خيار المسلمين. ابن حجر عسقلانی، فتح الباری، 12 : 283 ’’خوارج، خارجۃ کی جمع ہے جس کا مطلب ہے : ’’گروہ۔‘‘ وہ ایسے لوگ ہیں جو بدعات کا ارتکاب کرتے۔ ان کو (اپنے نظریہ، عمل اور اِقدام کے باعث) دینِ اسلام سے نکل جانے اور خیارِ اُمت کے خلاف (مسلح جنگ اور دہشت گردی کی) کارروائیاں کرنے کی وجہ سے یہ نام دیا گیا۔‘‘ 5۔ امام بدر الدین عینی عمدۃ القاری میں لکھتے ہیں : طائفة خرجوا عن الدين وهم قوم مبتدعون سموا بذلک لأنهم خرجوا علی خيار المسلمين. عينی، عمدة القاری، 24 : 84 ’’وہ ایسے لوگ ہیں جو دین سے خارِج ہوگئے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو بدعات کا ارتکاب کرتے تھے (یعنی وہ اُمور جو دین میں شامل نہ تھے ان کو دین میں شامل کرتے تھے)۔ (دینِ اِسلام سے نکل جانے اور) بہترین مسلمانوں کے خلاف (مسلح بغاوت اور دہشت گردی کی) کارروائیاں کرنے کی وجہ سے اُنہیں خوارِج کا نام دیا گیا۔‘‘ 6۔ علامہ ابنِ نجیم حنفی، خوارج کی تعریف یوں کرتے ہیں : الخوارج : قومٌ لَهم منعة وحمية خرجوا عليه بتأويل يرون أنه علی باطل کفر أو معصية توجب قتاله بتأويلهم يستحلون دماء المسلمين وأموالهم. ابن نجيم، البحر الرائق، 2 : 234 ’’خوارج سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے پاس طاقت اور (نام نہاد دینی) حمیت ہو اور وہ حکومت کے خلاف بغاوت کریں۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ وہ کفر یا نافرمانی کے ایسے باطل طریق پر ہے جو ان کی خود ساختہ تاویل کی بنا پر حکومت کے ساتھ قتال کو واجب کرتی ہے۔ وہ مسلمانوں کے قتل اور ان کے اموال کو لوٹنا جائز سمجھتے ہیں۔‘‘ کیا خیال ہے جن موجودہ عسکری گروہوں میں یہ نشانیاں اور ایسے اعمال ہوں انکو میں کیوں خوارج کے ساتھ نہ ملاوں؟؟؟ آخر کیوں ؟؟؟ آخیر کیوں؟؟؟ چلیں میں اپنے خوارج بارے موقف ہو آسان طریقہ سے سمجھانے کے لئے ایک قول سلف کا اقتباس ہی پیش کرتا ہوں ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : "ہر وہ شخص یا گروہ جس میں وہ (خوارج کی ) صفات پائی جائیں اسے بھی ان ( خوارج )کے ساتھ ملایا جائے گا۔" ابن تيميه، مجموع فتاوٰی، 28 : 476، 477

...
...

...

نئے خطبات و دروس

  ...  

سنیں اور ڈاؤنلوڈ کریں

خطیب

درس

...
...

...

نئے مقالات

  ...  

...
...

...

مرکزی کالم

آڈيو ويڈيو

رد فتن